ابنا: یوم القدس میں بھر پور شرکت کرنے پر امت مسلمہ کا شکریہ
دوسرے خطبے میں ہم اپنی اور دنیا کی موجودہ حالت کی جانب اشارہ کریں گے ۔سب سے پہلے یوم القدس کے مظاہروں میں عوام کی بھر پور شرکت پر اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔میں اِس قابل نہیں ہوں کہ اپنی قوم کا شکریہ اداکروں ،اِس لیے کہ میں کسی چیز کا مالک و صاحب نہیں ہوں!یوم القدس میں شرکت عوام سے مربوط ہے اور اُنہوں نے اِس راہ میں صحیح قدم اُٹھایا۔ضروری ہے کہ ہم خدا کا شکر ادا کریں ،عوام کی بصیرت اور ہمت و حوصلے کا کہ جو اُس نے ہمارے عوام کے دلوں میں ڈالا ہے ۔اِس سال یوم القدس کے مظاہرے بہت ہی عظیم الشان تھے۔
خطے میں رونما ہونے والے واقعات اِس بات کا سبب بنے کہ دوسری مسلمان اقوام نے سالہائے گذشتہ سے زیادہ اِس سال عالمی سامراج کے خلاف کھل کر اپنی نفرت و بیزاری کا اعلان کیا ۔ہمیں امید ہے کہ خداوند عالم ظالم و خوانخوار صہیونیوں کے ظلم و شر سے فلسطینیوں اور خطے کے عوام کو دور فرمائے گا۔
نیک اعمال کی بجا آوری ،
خداکی عطاکردہ توفیق ہے
اِسی طرح ماہ رمضان کی روحانی محفلوں میں عوام کی بھر پور شرکت پر ہم خدا کے شاکر ہیں ۔اِن روحانی اجتماعات میں لوگوں کی کثیر تعداد 'خداکی رحمت و لطف کی نشانی ہے۔جب بھی آپ یہ دیکھیں کہ خداجب آپ کو توفیق دیتاہے کہ آپ کوئی نیک کام انجام دیں تو خداکا شکر اداکریں ۔نیک کام کی بجا آوری اِس بات کی علامت ہے کہ خدانے آپ پر اپنا لطف و کرم کیا ہے اور آپ پر توجہ کرتاہے اور آپ کو توفیق دیتاہے۔ لیکن جب ہمیں کسی نیک کام کی توفیق حاصل نہیں ہوتی ہے تو ہمیں پریشان ہونا چاہئے ،ہمیں خداکی پناہ طلب کرنی چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سے ایسا کون سا گناہ سرزدہواہے کہ جس کی وجہ سے خداوند عالم نے نیک اعمال کی بجاآوری کی توفیق کو ہم سے چھین لیا ہے!
اُمت مسلمہ کا اقتدار حاصل کرنا
دنیائے اسلام میں گذشتہ چند ماہ میں بہت سے عظیم واقعات رونما ہوئے کہ جن کے توسط سے اُمت مسلمہ نے اپنی عوامی طاقت کی عظمت و قدرت کو تمام دنیا اور تاریخ کے سامنے پیش کیا ۔اِس سے قبل 32سال پہلے ایرانی قوم نے اپنی عوامی طاقت و عظمت اور اقتدار کو دکھایا تھا ۔ہماری عوام جان ہتھیلیوں پر رکھ کر میدان عمل میں کودی اور ایک بہت بڑا انقلاب لائی کہ جس نے نہ صرف خطے کی بلکہ ایک معنی میں دنیا کی تاریخ کو تبدیل کردیا ۔
قوموں کی طاقت و قدرت کا سرچشمہ!
آج بھی لوگ میدان عمل میں موجود ہیں ۔خطے کے مختلف اقوام کی میدان عمل میں موجودگی نے بہت سی مسدود راہوں اور بند دروازوں کو کھولا ہے ۔کون تصور کرسکتاتھا کہ خطے میں امریکا اور صہیونزم کے گماشتے یکے بعد دیگرے سقوط کرنے لگے گیں ؟!کون سوچ سکتاتھا کہ کہ ایک ہاتھ ایسا بھی ہے جو اِن بتوں کو پاش پاش کرسکتاہے ؟!لیکن یہ ہاتھ موجود ہے اور یہ قوموں کی طاقت و قدرت کا ہاتھ ہے !سب کو چاہئے کہ امت مسلمہ کو اِس نگاہ و زاویے سے دیکھیں ۔
اُمت مسلمہ ایک ایسے ہی مضبوط و توانا ہاتھ کی مالک ہے کہ جو ذکر الٰہی، تکبیر بلند کرنے اور خداکے نام کو زبان پر لانے پر بھروسہ کرتاہے ۔اقوام نے یہ اقتدار حاصل کیا اور بہت عظیم کام انجام دیا ۔توجہ رہے کہ حکومتوں کی نابودی اور ایجنٹوں کے ہٹ جانے سے مسائل کا خاتمہ نہیں ہواہے اور نہ ہی ہوگا۔یہ تو ایک آغاز ہے ، ایک طولانی سفر کا آغاز! یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں اقوام کو بہت ہوشیار رہنے کی
ضرورت ہے ۔ہمیں اِس سلسلے میں بہت زیادہ تجربات حاصل ہےں ۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی اور حکومت کی تشکیل کے بعد منافق اور دوست کے لبادے میں دشمن اپنے اپنے بلوں سے نکل آئے تاکہ راہ نفوذ حاصل کرسکیں اور حربوں اور چالوں سے انقلاب پرقبضہ کرسکیںاور موجودہ حالات کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کریں ۔لیکن قوم کی ہوشیاری اور امام خمینی ؒ کی رہبری و قیادت نے ایسا ہونے نہیں دیا۔
انقلابی مسلمان ہوشیار رہیں!
مصر ،لیبیا،تیونس اور یمن سمیت دوسرے ممالک میں مسلمانوں کو اِسی ہوشیاری کی اشد ضرورت ہے ۔وہ اِس بات کا موقع نہ آنے دیں کہ اُنہیں حاصل ہونے والی تاریخی کامیابی کو دشمن اغواء کرلے ۔وہ یہ بات اچھی طرح جان لیں اور فراموش نہ کریں کھ جو لوگ آج لیبیا کی سیاست میں آگے آگے ہیں اور خود کو اہل سیاست اور تمام مسائل و انقلاب کا مالک و صاحب قرار دیتے ہیں،یہ وہی افراد ہیں جو چند دن قبل تک لیبی قوم پر ظلم وستم کرنے والے افراد کے ہم پیالہ وہم نوالہ تھے !آج یہ لوگ میدان میں کود پڑے ہیں اور حالات کو اپنے مفادات کے تحفظ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔قوموں کو ہوشیار و بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔
بحرین کی مظلوم عوام پر ظلم و جفا
اور
غریب صومالیہ کی صورتحال!
ایک اور بات یہ ہے کہ ہم بحرین کی داخلی صورتحال سے بہت پریشان ہیں، اِس لیے کہ بحرینی عوام پر ظلم و جفا ہورہاہے ۔اُن سے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن اُن میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوتا ۔بحرینی قوم ایک مظلوم قوم ہے۔لیکن یاد رکھےے کہ ہر حرکت و قدم اُس وقت خداکے لیے ہوتاہے جب انسان کا مصمم عزم و ارادہ اُس کے ہمراہ ہو ۔بحرینی عوام کی یہ تحریک یقینا کامیاب ہوگی ۔یہ قانون فطرت تمام جگہ صادق آئے گا اور بحرین میں بھی پوراہوکر رہے گا۔
آخری نکتہ صومالیہ کے بارے میں ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے دل کو لاحق سب سے بڑی پریشانی اور غم ،صومالی عوام کا ہے ۔ہماری عوام نے الحمدوللہ بہت مدد کی لیکن اِس سے زیادہ ان کی امداد کرنی چاہئے تاکہ اُن کی یہ پریشانی برطرف ہوجائے۔
والسلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
............
/169-110